#مسکرائیے.....!!!
پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔
پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا؛ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔
پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا، چلو میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے۔
کہنے لگے: رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔
پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اُسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اُدھر ڈرائیو شروع کردی۔
کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی، نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔
میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟
کہنے لگی: اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔
لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی، ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔
میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اُس کے گھر پہنچا تو اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اُس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔
میں نے بھی اُسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اُسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اُسے بلا چوں و چرا دیدیا۔
میری یونیورسٹی کا سُن کر اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔
میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔
کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اُس کا خیال رکھا کیجیئے۔
میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔
کہنے لگی؛ میں اُس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اُسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔
میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اُسے پہچان لوں گا۔
کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔
پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اُس لڑکے کی طرف اُٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔
پروفیسر صاحب نے اُس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اُٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا؟
Tuesday, 29 May 2018
پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے
Monday, 28 May 2018
کیا ﺁﭖ *'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ ''* ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ
کیا ﺁﭖ *'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ ''* ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘـے ﮨﯿﮟ؟ -'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺩﻋﺎ ھــے ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩہرﺍﺗـے ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ-ﺩﺭﺣﻘﯿﺖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻟﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ھــے ﺟﻮ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮨﻮﺍ -.ﺟﺐ حضرت محمد ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ' ﺍَﺳَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﯿﮑُﻢ ' ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ - ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴـے ﺳﻼﻡ ﮐﮩﮯ ﺟﻮ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻼﻡ ھــے ؟ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ھــے ﻟﮩﺬﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :-*'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕ ُﻟِﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﻮَﺍﺕُ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺎﺕُ "*ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻟﻠﮧ کیلئـے ﮨﯿﮟﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧـے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ :-*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛَﺎﺗُﻪُ*ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﮨﻮﮞﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :-*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﻋِﺒَﺎﺩِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦ*َ ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮﻧﻮﭦ:- آپ ﷺ ﻧـے " ﮨﻤﯿﮟ " ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ , (ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ)ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﯾﮧ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧـے ﮐﮩﺎ*ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﺇِﻟَﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪُُ ﻭَﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﻋَﺒْﺪُﻩُ ﻭَﺭَﺳُﻮﻟُﻪ*ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ۔ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !!ﺍﺱ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﺌـے ۔۔۔۔۔ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯿﺠﺌـے ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺟﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﺰﺍﮐﻢ ﺍﻟﻠﮧ خیراً و کثیراًبحوالہ (بخاری ومسلم) مظاہر حق جدید, شرح مشکوۃ شریف, باب: تشہد کا بیان، صفحہ 588 تا 593
می وا (Miwa) ایک جاپانی لڑکی تھی
می وا (Miwa) ایک جاپانی لڑکی تھی۔ ایک دن کہنے لگی ’’یہ جو تم روزہ رکھ کر رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہو، اس سے تمھیں کہا ملتا ہے؟‘‘۔
میں نے اسے بتایا کہ روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمان داری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام برے کاموں سے بھی بچنا ہے‘‘
می وا بولی ’’آپ کی تو موجیں ہیں، ہمیں تو سارا سال ان کاموں سے بچنا پڑتا ہے‘‘
(نعیم مشتاق)
ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
*ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟*
*ﺁﺝ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﺲ ﭘﺸﺖ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﮭﺎ،*
*ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻼﺗﻤﮩﯿﺪ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ،*
*ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻧﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ:*
*"ﺍﻟﻠﮧ پاک ﺗﺠﮭﮯ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ"*
*ﺩﻋﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:*
*"ﺣﻀﺮﺕ! ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﮨﻢ ﻣﺎﻝ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮬﺮ ﺳﺎﻝ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﺯﮐﺎۃ ﻧﮑﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺑﻼﺅﮞ ﮐﻮ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﺴﺐِ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺻﺪﻗﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،*
*ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺧﺮﭼﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ،*
*ﷲ پاک ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭧ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ."*
*ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﯿﻤﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ:*
*"ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ! ﺳﺎﻧﺲ، ﭘﯿﺴﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ... ﯾﮧ ﺳﺐ ﺗﻮ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﮨﯿﮟ،*
*ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ!*
*"ﺭَﺍﺯِﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺮَّﺯَّﺍﻕ" ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ.*
*ﺗﻢ ﺟﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﯾﮧ ﺳﺐ ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ،*
*ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﺮﻑ ﺍﻟﻤﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ."*
*ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ:*
*"ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ! ﺁﺅ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺅﮞ ﮐﮧ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ...*
*- ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﺩﺍﺱ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ، ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻦ ﻻﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﻨﺎ ... ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﺍﭘﻨﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯽ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺗﮓ ﻭﺩﻭ ﮐﺮﻧﺎ .... ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﺻﺒﺢ ﺩﻓﺘﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﯾﺘﯿﻢ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﻟﯿﻨﺎ...*
*ﯾﮧ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﯾﺎ ﺑﮩﻨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﻀﻞ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ...*
*ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﭙﮭﺮﮮ ﮐﺴﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﮐﮍﻭﯼ ﮐﺴﯿﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﺎ...*
*ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﭼﺎﮰ ﮐﮯ ﮐﮭﻮﮐﮭﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺋﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑُﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑُﻼﻧﺎ ... ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﮔﻠﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺤﺚ ﻣﺒﺎﺣﺜﮯ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮐﺮ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ...*
*ﯾﮧ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺘﺮ، ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﯾﺎ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﮐﮯ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ کم آمدن والے ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ چھوٹا نہ سمجهنا، انہیں ﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻞ ﮐﺮﻧﺎ، ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ، ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ...*
*ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺗﺴّﻠﯽ ﺩﯾﻨﺎ...*
*ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!*
*- ﭨﺮﯾﻔﮏ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮨﺎﺭﻥ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ...*
*ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮨﮯ!"*
*ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮐﻼﻡ ﺟﺎﺭﮮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:*
*"ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ! ﺗﻢ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﮯ؟*
*- ﺁﺝ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐُﮭﻠﻨﮯ ﺗﮏ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ،*
*- ﺁﺝ ﺳﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮈﺍﻧﭧ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﻨﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﮔﺎﻧﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ،*
*- ﺁﺝ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﻥ ﮐﮯ پاسﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﺏ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﺑﺖ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ،*
*- ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ دﯾﺎ ﮐﺮﻭ،*
*- ﺁﯾﻨﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ،*
*- ﺳﺎﻟﻦ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﺣﺮﻑِ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ،*
*- ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ،*
*ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ !*
*ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮ،*
*ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﭼﮭﻮﮌﻭ، ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺁﺳﺎﻥ ﺑﻨﺎﺅ،*
*ﺍﻥ ﺷﺎﺀﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ !!!"*
*ﺁﺋﯿﮟ ! ﺻﺪﻕِ ﺩِﻝ ﺳﮯ ﺩُﻋﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ 'ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ' ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ،*
*(ﺁﻣﯿﻦ ﺛﻢ ﺁﻣﯿﻦ)*
مولوی صاحب
مولوی صاحب سے میزبان نے پوچھا, آپ کے لیے حلوہ لاؤں یا سویاں؟
صدقے جاؤں مولوی صاحب کے جواب پر, کہنے لگے,
بیٹا! آپ کے گھر میں ایک ہی برتن ہے کیا؟
اسی اِینے جُوگے ای ساں
ایک میراثی کو خواب آیا کہ اسکا ایک کمرا مٹھائی سے بھرا پڑا ہے اور وہ اس میں سے سارے خواب میں مٹھائی کھاتا رہا ۔ صبح اٹھا تو سوچا اب اتنی مٹھائی کا میں کیا کروں گا؟ ایسے تو یہ پڑی پڑی خراب ہوجائے گی وہ مسجد میں گیا اور اعلان کروا دیا کہ آج شام کو سارے گاؤں کی گامے میراثی کے گھر دعوت ہے ۔ ہر بندہ حیران تھا کہ گھر گھر سے روٹیاں مانگنے والا آج پورے گاوں کی دعوت کررہا ہے؟
گاما میراثی گھر آیا تو اسکی بیوی نے کہا ابھی ابھی مسجد میں اعلان ہوا ہے گامے میراثی کے گھر دعوت ہے؟ گاما میراثی سینہ چوڑا کرکے بولا تو ہاں میں نے ہی اعلان کروایا ہے یہ جو اندر کمرا مٹھائی کا بھرا پڑا ہے اسکو کون کھائے گا؟ میں نے سوچا ویسے بھی اتنی مٹھائی خراب ہوجانی ہے چلو گاوں والوں کی دعوت کردیتا ہوں ساری عمر انکا کھایا ہے آج زرا اللہ نے سنی ہے تو انکو بھی کھلا دوں ۔ گامے کی بیوی نے جب تفصیل پوچھی تو اس نے اپنا خواب سنایا اسکی بیوی نے سر پکڑ لیا اور کہا جاو اندر کمرے میں جاکر دیکھو مٹھائی کہاں ہے؟ جب اس نے دیکھا تو کمرا خالی تھا ۔ بیچارا بڑا پریشان ہوا بہت سوچ بچار کے بعد بیوی کو کہا چلو کوئی گل نئی اللہ وارث اے تم ایسا کرو دریاں وغیرہ بچھا کر گاوں والوں کے بیٹھنے کا بندوبست کرو میں کچھ ارینج کرلونگا
جب شام ہوئی اور گاوں والے آنا شروع ہوگئے گاما ایک تولیہ صابن اور لوٹا لیکر دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا جو بھی آتا وہ صابن سے اسکے ہاتھ دھلواتا اور تولیہ پیش کرتا ۔ آوجی ملک صاب ہتھ دھو لوُ ،آو جی رانا صاب ہتھ دھو لوُ ، آو جی چوہدری صاب ہتھ دھو لوُ ۔۔۔ غرض کہ پورے گاوں کے ہاتھ وغیرہ اچھی طرح دھلوا کر دریوں پہ بٹھا دیا ۔ سب لوگ حیران پریشان تھے کہ لگتا ہے گامے نے کوئی VIP بندوبست کیا ہے۔ کچھ دیر بعد گاما حسب عادت ہاتھ جوڑ کرسب کے سامنے کھڑا ہوگیا چوہدری صاب، ملک صاب، رانا صاب تے سارے پنڈ والیو (میں اِینے جُوگا اِی سَاں)
مطلب میری اتنی ہی حیثیت تھی کہ بس ہاتھ ہی دھلوا سکتا تھا
کچھ دن پہلے ایک صاحب کو خواب آیا کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ ہے کہ تمام فیڈرل گورنمنٹ ملازمین کو تین مہینے کی تنخواہ بونس دے دی جائے اور فوراً سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا خبر ہر ٹی وی چینل اور اخبار کی زینت بنی ملازمین ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگ گئے کچھ نے تو بونس لے لارے پر پیسے بھی ادھار پکڑ لیے، جب میراثی نما حکمران کو ہوش آیا تب احساس ہوا کہ اندر تو خالی ہے اب بجائے شرمندہ ہونے کے الٹا فرما دیا وہ بونس تمام ملازمین کے لئے نہیں بلکہ انکے اپنے پالتو ملازمین کے لئے ہے.
اور یہ قوم بھی ایسی سیدھی سادھی ہے ہاتھ منہ دھو کر دریوں پر بیٹھے گامے کا انتظار کررہے ہیں فکر نا کرو الیکشن آرہے ہیں وہ آکر ہاتھ جوڑ کر کہہ دینگے میرے عزیز ہم وطنو ( اسی اِینے جُوگے ای ساں)